Pages

Friday, 11 April 2014


حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ زندگی بھر کسی شخص نے بھی کسی معاملہ میں مجھے اس طرح شکست نہیں دی جس طرح بلخ کے ایک نوجوان نے دی.. میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں اس سے ہار گیا..
شاگردوں نے پوچھا.. " حضرت ! اصل واقعہ کیا ہے.. "
فرمایا.. " ایک دفعہ بلخ کا ایک نوجوان حج کو جاتے ہوئے میرے پاس حاضر ہوا جو انتہائی متوکل اور صابر نوجوان تھا.. اس نے مجھ سے سوال کیا کہ زہد کی حقیقت آپ کے نزدیک کیا ہے..
میں نے کہا کہ جب ہمیں ملے تو کھالیں اور جب نہ ملے تو صبر کریں..
اس نے کہا ایسے تو ہمارے ہاں بلخ کے کتے بھی کرتے ہیں.. جب ملے کھالیتے ہیں اور جب نہ ملے تو صبر کر لیتے ہیں.. یہ تو کوئی کمال کی بات نہیں ہے..
میں نے پوچھا تو پھر تمہارے ہاں زہد کی حقیقت کیا ہے..
وہ کہنے لگا جب ہمیں نہ ملے تو پھر بھی حمد و شکر کریں اور جب ملے تو دوسرں پر ایثار کر دیں.. یہ ہے زہد کی حقیقت..!! "

Thursday, 10 April 2014


انگریزوں کے زمانے میں ایک عالم بغاوت کے الزام میں جیل میں بند تھے۔ جمعے والے دن نہا دھو کر ' تیل کنگھی کر کے انتظار میں رہتے.. جونہی جمعے کی اذان ہوتی تیز تیز قدموں سے چلتے جیل کے مین گیٹ پر کھڑے ہو جاتے اور پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کر سنتے اور پھر واپس آ جاتے..
انگریز جیلر جو اُن کا یہ معمول دیکھ رہا تھا' آخر اس نے حافظ صاحب کو دفتر طلب کیا اور پوچھا.. " تم یہ کیا تماشہ کرتے ہو ہر جمعے والے دن..؟ جب تم کو معلوم ھے کہ جیل کا دروازہ بند ہے اور تم اس سے باہر نہیں جاسکتے تو پھر اتنے دور چل کر جانے کا کیا مقصد ہے..؟"
حافظ صاحب نے جواب دیا.. "جیلر صاحب ! میرے رب کا مجھے حکم ہے کہ جب جمعے کی اذان سنو تو سارے کام چھوڑ کر جھٹ پٹ مسجد پہنچو.. میں جہاں تک یہ حکم پورا کر سکتا ہوں کر دیتا ہوں.. اس امید کے ساتھ کہ آگے میری مجبوری کو دیکھ کر میرا رب میری حاضری خود لگا دے گا کیوں کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ کسی کی استطاعت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا.. مجھے امید ہے میرا رب مجھے جمعے کا اجر عطا فرما دے گا اگرچہ میں جیل میں ظہر پڑھتا ہوں.. جو چیز آپ کو تماشہ لگتی ہے وہ میرے لیئے دین اور ایمان کا مسئلہ ہے.."
بس ہمارا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے.. جہاں تک اسلام میں وسعت موجود ہے اور ہم کر سکتے ہیں وہاں تک دین کے دائرے میں رہتے ہوئے کوشش کرتے رہیں اور جو بس میں نہیں ہے اس کے لیے اللہ سے امید رکھیں اور دعا کرتے رہیں..
حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ھیں..
خود کو اچھی طرح ٹٹول لو اور تین مواقع پر اپنے ذھن کی کیفیت نوٹ کرلیا کرو..
نماز پڑھنے کے دوران..
قرآن پڑھتے وقت..
اور اللہ کا ذکر کرتے وقت..
ان تین مواقع پر اگر تم لطف و کیف محسوس کرو تو ٹھیک ورنہ جان لو کہ "دروازہ" بند ھے..!!
وہ ایک سخت گیر افسر کے طور پر مشہور تھا۔ تمام ماتحت اس سے بے انتہا ڈرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ ہر کام وقت پر اور احسن طریقے سے ختم ہو تاکہ اسکی ناراضگی سے بچا جا سکے۔
ایک دن اس افسر کو اچانک کسی فائل کی ضرورت پڑ گئی۔ اس نے اپنے ایک ماتحت کو کال کی اور اسے اپنے دفتر میں آنے کو کہا۔ پانچ منٹ گزر گئے لیکن وہ نہیں آیا۔ افسر کو بہت غصہ آیا۔ اس نے دوبارہ کال کی اور ماتحت نے معافی مانگتے ہوئے ابھی آنے کا وعدہ کیا لیکن پانچ منٹ مزید گزر گئے اور وہ نہیں آیا۔
افسر کا پارہ چڑھ گیا۔ اس نے تقریباً چیختے ہوئے فوراً اسے اپنے دفتر میں آنے کو کہا۔ پانچ منٹ مزید گزر گئے اور وہ نہ آیا۔ افسر کا غصہ اپنی انتہائی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ اس نے اپنے سیکرٹری کو کہا کہ اس ماتحت کو آفس میں لے کر آئے۔ 
تھوڑی دیر بعد وہ سیکرٹری اکیلا واپس آ گیا اور بتایا کہ وہ تو کھانا کھانے کیلئے دفتر سے باہر چلا گیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ اس افسر کی برداشت کا مادہ ختم ہو گیا۔ اس نے اسی وقت اس ماتحت کے موبائل پر کال ملائی اور اسے کہا کہ اگر تم اگلے پانچ منٹ میں آفس نہیں پہنچے تو اپنے آپ کو نوکری سے برخاست سمجھو۔ 
ٹھیک پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد اس افسر نے ایچ آر مینجر کو آرڈر جاری کیا کہ اس ماتحت کو نوکری سے برطرف کر دیا جائے۔
اگلے دن وہ ماتحت آفس آیا تو افسر اس کی شکل دیکھ کر ہی برس پڑا:
"اب کیوں آئے ہو یہاں؟ تمہیں نکال دیا گیا ہے نوکری سے، دفع ہو جاؤ یہاں سے۔"
ماتحت خاموشی سے سنتا رہا، پھر کہا: "سر! میں نے یہ سب آپ کو ایک سبق دینے کے لیے کیا تھا۔"
"سبق؟؟ کیسا سبق؟؟" افسر نے آنکھیں نکالیں۔
"سر یہ سبق کہ میری صرف ایک دن کی غفلت سے آپ نے مجھے نوکری سے نکال دیا، اور آپ جو روزانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اُس مالکِ کائنات کے حکم پر، جب وہ آپ کو دن میں پانچ بار نماز کی طرف بلاتے ہیں۔ 
ہر اس موقع پر آپ کی غفلت اور نافرمانی دیکھنے کو ملتی ہے جب آپ اپنے ملازموں کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں جبکہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
میری ایک دن کی غفلت نے مجھے نوکری سے نکلوا دیا، سوچیں جب آپ عمر بھر کی غفلتیں لے کر اس مالکِ کائنات کے پاس جائیں گے تو کیا سلوک ہو گا آپ کے ساتھ؟ کبھی سوچا آپ نے؟؟؟"
ماتحت یہ کہہ کر باہر نکل گیا، اور اس افسر کو سوچ کے ایک وسیع سمندر میں چھوڑ گیا۔

Tuesday, 8 April 2014

o
انتہائی محبّت؟
نوجوان دولہا نے کہا:۔
” کیا تمہیں میری انتہائی محبّت کا، اب بھی یقین نہیں آیا؟ دیکھتی ہو! میں نےاپنی زندگی کا عزیز ترین اور بیش بہا ترین سرمایہ،اپنا دل تم پرقربان کردیا ہے! نثارکر دیا ہے!!“
دُلہن نے اپنی نغمہ ریز آواز ميں جواب دیا۔
”دل قربان کرنا تومحبّت کے راستے میں پہلا قدم ہے!
میں تمہاری محبت کا اِس سے بہترثبوت چاہتی ہوں!
تمہارے پاس اپنے دل سے کہيں زیادہ بیش بہا اِک موتی ہےاوروہتمہاری ماں کا دل ہے۔
اگرتم اُسےنکال کر مجھےلادوتومیں سمجھوں کہ ہاں تمہیں مجھ سے محبت ہے!“
نوجوان دُولہا ایک لمحہ کےليےگھبرا سا گیا۔ اُس کےخيالات ميں ایک قیامت سی برپا ہوگئی۔
مگر بالآخر”بیوی کی محبّت“ ”ماں کی محبّت“ پرغالب آئی ۔ اِسی مجنونانہ، مسحورانہ حالت ميں اُٹھا اوراپنی ماں کا سینہ چیر کر، اُس کا دل نکال کراپنی دلہن کی طرف لےچلا۔ اضطرابِ عجلت میں پیرجو پِھسلا تو نوجوان دُولہا زمین پرگِرپڑا اوراُس کی ماں کا خون آلود دل، اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کرخاک میں تڑپنے لگا۔۔۔۔۔۔۔!
اُس دل میں سےنہایت آہستہ شیریں اور پیار سے لبریز آواز آرہی تھی!
”بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟“