Pages

Tuesday, 8 April 2014

o
انتہائی محبّت؟
نوجوان دولہا نے کہا:۔
” کیا تمہیں میری انتہائی محبّت کا، اب بھی یقین نہیں آیا؟ دیکھتی ہو! میں نےاپنی زندگی کا عزیز ترین اور بیش بہا ترین سرمایہ،اپنا دل تم پرقربان کردیا ہے! نثارکر دیا ہے!!“
دُلہن نے اپنی نغمہ ریز آواز ميں جواب دیا۔
”دل قربان کرنا تومحبّت کے راستے میں پہلا قدم ہے!
میں تمہاری محبت کا اِس سے بہترثبوت چاہتی ہوں!
تمہارے پاس اپنے دل سے کہيں زیادہ بیش بہا اِک موتی ہےاوروہتمہاری ماں کا دل ہے۔
اگرتم اُسےنکال کر مجھےلادوتومیں سمجھوں کہ ہاں تمہیں مجھ سے محبت ہے!“
نوجوان دُولہا ایک لمحہ کےليےگھبرا سا گیا۔ اُس کےخيالات ميں ایک قیامت سی برپا ہوگئی۔
مگر بالآخر”بیوی کی محبّت“ ”ماں کی محبّت“ پرغالب آئی ۔ اِسی مجنونانہ، مسحورانہ حالت ميں اُٹھا اوراپنی ماں کا سینہ چیر کر، اُس کا دل نکال کراپنی دلہن کی طرف لےچلا۔ اضطرابِ عجلت میں پیرجو پِھسلا تو نوجوان دُولہا زمین پرگِرپڑا اوراُس کی ماں کا خون آلود دل، اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کرخاک میں تڑپنے لگا۔۔۔۔۔۔۔!
اُس دل میں سےنہایت آہستہ شیریں اور پیار سے لبریز آواز آرہی تھی!
”بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟“

No comments:

Post a Comment