دفتر آنے کے لئے رکشے کی تلاش میں کھڑا تھا کہ وہی سفید داڑھی اور بالوں والے بابا جی مل گئے۔۔ کوئی ایک ہفتہ پہلے ہی میں ان کے رکشے پر دفتر آیا تھا۔۔۔ وہ مجھے پہچان گئے لیکن میں نہیں پہچانا ۔۔۔ بابا جی کی عمر کوئی پینسٹھ اور ستر سال کے درمیان ہو گی۔۔ شکل و صورت سے پشتوں نظر آتے ہیں۔۔ سفید شلوار قمیض مٹی پڑ پڑ کے خاکی ہو گئی ہے۔۔ لیکن مجال ہے کہ کوئی دھبہ یا داغ نظر آئے۔۔۔ چہرے پر سنجیدگی، اطمنان اور دبدبہ ہے،جو مخاظب کو عزت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔
بابا جی نے اپنا رکشہ روکا تو میں نے سلام کے بعد سوال کیا
محترم فلاں جگہ جانا ہے کتنے پیسے لین گے؟؟
میرا تجربہ ہے ،کہ بہتر یہ ہی ہے کہ آپ ٹیکسی یا رکشہ لینے سے پہلے ہی رکشہ /ٹیکسی ڈرائیور سے کرایہ طے کر لیں ۔۔۔ یہ عمل منزل پر پہنچ کر بدمزگی سے بچاتا ہے۔۔۔
بابا جی مسکرا کر بولے بیٹا وہی 100 روپے دے دینا جو پچھلی مرتبہ دیئے تھے۔۔
میں بولا بابا جی میں تو ایک سو بیس دے کر جاتا ہوں ایسا ہو نہیں سکتا کہ میں نے آپ کو بیس کم دیئے ہوں۔۔
بابا جی مسکرائے اور دروازہ کھول دیا تاکہ میں بیٹھ سکوں۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں نے پیسے پورے نہیں دیئے ہونگے اس لئے میں نے پھر پوچھا
بابا جی کیا پچھلے ہفتے میں نے آپ کو پیسے کم دیئے تھے؟؟
بابا جی بولے نہیں سر ۔۔۔ مگر اگر میں کہوں کے کم دیئے تھے تو کیا آپ وہ پیسے آج دے دیں گے؟
میں بولا جی بالکل۔۔ گو کہ مجھے تو یاد نہیں ایسا ہوا ہو لیکن اگر ایسا ہوا ہے۔۔۔ تو میرے لئے یہ بات باعث شرمندگی ہے ۔۔ میں جتنے پیسے دے کر روزانہ آتا ہوں۔۔۔ اگر کوئی کم بھی مانگے تو میں اسے پھر بھی اسے اتنے ہی دیتا ہوں کیونکہ جب میرے رب کی رحمتیں مجھ پر کم نہیں ہوتیں تو میں کیونکر چند روپوں کی خاطر رب کی ناشکری کروں اور ناراضگی مول لوں اور کیسی کا حق ماروں یا خدا نخوستہ اس کا سوچوں ؟
بابا جی مسکرائے اور بولے ماشاء اللہ، آپ نے مجھے 120 ہی دیئے تھے۔۔۔
بابا جی کی یہ باتیں سن کر مجھے اشتياق ہوا کہ ان سے گفتگو کروں اور پوچھوں کہ یہ کوں ہیں اور کہاں سے ہیں۔
میں نے پوچھا : بابا جی آپ پٹھان ہیں؟
بولے نہیں پنجابی ہوں اور میانوالی سے تعلق ہے۔۔ لیکن اب لاہوری بن چکا ہوں۔۔۔
میں نے پھر سوال کیا
ریٹائیرڈ فوجی؟
بولے جی بیس سال پہلے ریٹائیر ہو ا تھا۔۔ پہلے نوکری کی پھر رکشہ خرید لیا پچھلے دس سال سے یہ ہی کام کر رہا ہوں۔۔
میں بولا آپ کا رکشہ ٹو سٹروک ہے ۔۔لوگ تو فور سٹروک کو ترجیع دیتے ہیں ۔۔ کتنا کما لیتے ہیں؟
بابا جی بولے الحمدللہ روزانہ پانچ سات سو کما لیتا ہوں۔ اللہ کا کرم ہے پینشن اور ان پیسوں سے میرا اور میری بیوی کا بہت اچھا گزارا ہو جاتا ہے۔ ذمہ داری ہے نہیں اس لئے رکشہ چلا کر اپنے آپ کو مصروف بھی رکھتا ہوں۔۔
میں نے پوچھا کیا آپ کی اولاد نہیں؟
بولے ماشاء اللہ دو بیٹے ہیں اور دونوں اپنی جگہ خوش اور آباد ہیں۔۔
میں نے کہا تو پھر آپ گھر آرام وغیرہ کریں ماشاء اللہ بیٹے اتنا تو کما ہی لیتے ہونگے کہ آپ کو کام کی ضرورت نا پڑے؟
بابا جی بولے : نہیں سر ساری زندگی ان کو کھلایا ،پلایا اور پڑھایا ہے۔۔ سب کچھ محبت میں کیا ہے ۔۔ محبت کا معاوضہ نہیں لیا جاتا ۔۔۔ اور مجھے بھی یہ اچھا نہیں لگتا کے ان سے پیسے وغیرہ لو ں۔ ویسے بھی اب ان کے اپنے خاندان ہیں وہ اپنے خاندان کی ضروریات سہی طریقے سے پوری کریں اسی میں ہم بوڑھا بوڑھی کی خوشی ہے۔۔۔
میں نے پوچھا آپ کہیں بعیت ہیں؟
مسکرائے اور بولے: نہیں۔۔۔ بس نماز باقاعدگی سے پڑھتا ہوں ،کوشش کرتا ہوں کسی کو مجھ سے نقصان نہ پہنچے۔۔۔ اگر میرا نقصان ہو جائے تو اپنی غلطیون کی طرف دیکھتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کے مجھے زندگی سمجھنے کا ایک اور موقع دیا۔۔۔
سر زندگی میں کبھی حرام کا ایک نوالہ نہیں کھا یا اور نا ہی گھر والوں کو کھلایا ہے۔۔ محنت کرتا ہوں اور حلال کماتا ہوں کبھی کسی سواری سے حق سے زیادہ پیسے نہیں مانگے۔۔۔ اسی لئے ۔۔۔ کبھی ایک آدھ گھنٹے سے زیادہ خالی بھی بیٹھنا نہیں پڑا۔۔۔ ابا جی کسان تھے۔۔۔ اللہ والے تھے ۔۔۔ انھوں نے رب سے باتیں کرنے کی عادت ڈلوائی۔۔۔
وہ کہتے تھے اپنا غم اور مشکلات صرف اللہ کو بتایا کرو۔۔۔۔ اس یقین کے ساتھ، کہ وہ تمھیں جواب بھی دے گا اور تمھاری تکلیف بھی دور کرے گا۔۔
میں نے پوچھا ماشاء اللہ آپ تو زندگی سے بہت مطمئن اور خوش ہیں ، اس خوشی اور اطمنان کا راز کیا ہے؟
بابا جی بولے : سر اس دنیا میں خوشیاں بانٹین اور ہر ایک کو اپنی خوشی میں شریک کریں لیکن اپنے غم ،سوائے اللہ کے کسی کو نہ بتائیں ۔۔
ہاں دوسروں کی غمی میں ضرور شریک ہوں۔۔۔ اپنےغم اور مشکلات صرف اللہ کو بتائیں ۔۔۔ وہ سب کچھ جانتا ہے ۔۔۔ مگر وہ اپنے بندے کے اس فعل کو پسند کرتا ہے۔۔۔ جب اسکا بندہ ،اسے اپنا درد بتاتا ہے اور پھر اس درد کو دور کرنے کی فریاد کرتا ہے ۔۔۔۔ جب بندہ ایسا کرتا ہے تو اللہ سوہنے کی رحمت موج مارتی ہے اور بندے کی کشتی پار لگ جاتی ہے۔۔۔
میں نے پوچھا: بابا جی کتنا پڑھے ہوئے ہیں باتیں تو آپ بہت پڑھی لکھی کر رہے ہیں؟
بابا جی بولے : سر میں چھ جماعتیں پڑھا ہوں۔۔۔ لیکن دنیا خود بھی تعلیم دیتی ہے بس بندے کو ارد گرد دھیان رکھنا ہوتا ہے اور پھر غور و فکر کرنی ہوتی ہے۔۔۔
میں سوچ میں پر گیا کہ اس بوڑھے شخص میں کتنی خودداری اور قناعت ہے۔۔ کتنا خوش قسمت ہے کہ اتنے کم پر خوش اور صابر ہے ۔۔۔ اللہ کی کتنی رحمت ہے اس پر، اللہ نے اسے دنیا سے توقعات رکھنےسے بچا رکھا ہے اور اسے بے نیاز کر دیا ہے۔۔
اسی سوچ میں دفتر آ گیا ۔۔
پیسے دیئے اوردفتر آ کر سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔پہلے ای میلز چیک کیں اور فیس بک اکاونٹ میں لاگ ان ہو گیا۔۔۔
اسی دوران حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ذہن میں گونجنے لگی۔۔۔
الکاسب حبیب الله
محنت کش اللہ کا دوست ہوتا ہے۔
شاید رکشے والے بوڑھے بابا کی باتوں کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بابا محنت کر کے روزی کماتا ہے۔۔ وہ محنت کرتا ہے،توکل کرتا ہے اور راضی بالرضا رہتا ہے۔۔۔
رب رحمان اسے اپنی جناب سے روزی عطا کرتا ہے ۔۔ اس کی نیت ، صاف دلی اور محنت کا ثمر اور اللہ کی ایک بڑی عطا۔۔۔ جسے۔۔۔ حکمت کہتے ہیں اس کے چہرے اور گفتگو سے عیاں ہوتی ہے۔۔
میں ایک متمول خاندان میں پیدا ہوا۔۔ جو بات منہ سے نکلتی وہ تقریباً پوری ہو جاتی۔۔۔ جس سوسائٹی میں تعلیم پائی وہاں اکثر بچے محنت کشوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔۔ لیکن الحمدللہ میرے والدین نے ہمیشہ ہم بہن بھائیوں کو انسان کی عزت کرنی سکھائی۔۔۔لیکن پھر بھی کئی بار سٹیٹس کا خناس ذہن میں آ ہی جاتا۔۔
یہ 1996 کی بات ہے کہ گیزر کو جانے والا پائپ زیر زمیں ٹوٹ گیا۔۔۔ ابو نے دفتر جانے سے پہلے مجھے کہا ۔۔۔۔کہ ایک مزدور لے آؤں تا کہ وہ فرش توڑ کر پائپ نکال دے پھر پلمبر بلا کر پائپ بدلاؤں ۔۔۔ اور اس کے بعد مزدور سے سیمنٹ بجری ڈلوا کر ٹوٹا فرش جڑوا لوں۔۔۔
ابو دفتر چلے گئے۔۔۔ یہ ایف ایس سی کے امتحان دینے کے بعد کا زمانہ تھا ۔۔۔ جسمانی فٹنس اور سٹیمینا اپنے عروج پر تھا ۔۔۔۔ بیٹھے بیٹھے ایسے ہی خیال آیا جو کام مزدورسے کروانا ہے ۔۔۔ میں یہ کام خود کیوں نہ کر لوں ۔۔۔۔اوزار وغیرہ تو موجود ہیں۔۔سو ابو کے جاتے ہی میں نے جگہ توڑنی شروع کر دی ا۔۔۔ ساری دن کوئی تین چار فٹ فرش توڑا اور کوئی دو ڈھائی فٹ کھدائی کی۔۔۔ بالاخر وہ جگہ مل ہی گئی جہاں سے پائپ ٹوٹا ہوا تھا۔۔۔
شام کو ابو آئے تو میں نے ابو کو بتایا کہ مزدور تو کوئی نہیں ملا اس لئے میں نے یہ کام خود کیا ہے۔۔۔ نہا دھو کر جب چائے کے لئے بیٹھے تو مجھ سے دایاں بازو ہلانا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ پورا جسم سخت تکلیف میں تھا۔۔۔ میں نے ابو کو کیفیت بتائی ۔۔ تو وہ ہنس پڑے اور مجھے کہا کہ تجھے کس نے کہا تھا کہ یہ کام کرتا ۔۔۔ پھر دو بروفین کی گولیان دیں اور آرام کا کہا۔۔
ساری رات اذیت میں گزری۔۔ لیکن اللہ کی رحمت سے اس بات کا احساس ہوا کہ مزدوری کرنا کتنا مشکل کام ہے۔؟۔ ہم جنھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ کس طرح محنت کر کے روزی کماتے ہیں۔۔۔
میں تو دو چار فٹ فرش توڑ کر اور کھدائی کر کے بے حال ہو گیا ۔۔۔ جبکہ وہ جو روزانہ اس سے کئی گنا زیادہ کام ۔۔۔۔ اپنی اولاد اور خاندان کی روزی کمانے کے لئے کرتے ہیں اور اس پر اللہ کی رضا کے لئے پوری ایمانداری سے کرتے ہیں وہ یقیناً عظیم لوگ ہیں ۔۔۔
بابا جی نے اپنا رکشہ روکا تو میں نے سلام کے بعد سوال کیا
محترم فلاں جگہ جانا ہے کتنے پیسے لین گے؟؟
میرا تجربہ ہے ،کہ بہتر یہ ہی ہے کہ آپ ٹیکسی یا رکشہ لینے سے پہلے ہی رکشہ /ٹیکسی ڈرائیور سے کرایہ طے کر لیں ۔۔۔ یہ عمل منزل پر پہنچ کر بدمزگی سے بچاتا ہے۔۔۔
بابا جی مسکرا کر بولے بیٹا وہی 100 روپے دے دینا جو پچھلی مرتبہ دیئے تھے۔۔
میں بولا بابا جی میں تو ایک سو بیس دے کر جاتا ہوں ایسا ہو نہیں سکتا کہ میں نے آپ کو بیس کم دیئے ہوں۔۔
بابا جی مسکرائے اور دروازہ کھول دیا تاکہ میں بیٹھ سکوں۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں نے پیسے پورے نہیں دیئے ہونگے اس لئے میں نے پھر پوچھا
بابا جی کیا پچھلے ہفتے میں نے آپ کو پیسے کم دیئے تھے؟؟
بابا جی بولے نہیں سر ۔۔۔ مگر اگر میں کہوں کے کم دیئے تھے تو کیا آپ وہ پیسے آج دے دیں گے؟
میں بولا جی بالکل۔۔ گو کہ مجھے تو یاد نہیں ایسا ہوا ہو لیکن اگر ایسا ہوا ہے۔۔۔ تو میرے لئے یہ بات باعث شرمندگی ہے ۔۔ میں جتنے پیسے دے کر روزانہ آتا ہوں۔۔۔ اگر کوئی کم بھی مانگے تو میں اسے پھر بھی اسے اتنے ہی دیتا ہوں کیونکہ جب میرے رب کی رحمتیں مجھ پر کم نہیں ہوتیں تو میں کیونکر چند روپوں کی خاطر رب کی ناشکری کروں اور ناراضگی مول لوں اور کیسی کا حق ماروں یا خدا نخوستہ اس کا سوچوں ؟
بابا جی مسکرائے اور بولے ماشاء اللہ، آپ نے مجھے 120 ہی دیئے تھے۔۔۔
بابا جی کی یہ باتیں سن کر مجھے اشتياق ہوا کہ ان سے گفتگو کروں اور پوچھوں کہ یہ کوں ہیں اور کہاں سے ہیں۔
میں نے پوچھا : بابا جی آپ پٹھان ہیں؟
بولے نہیں پنجابی ہوں اور میانوالی سے تعلق ہے۔۔ لیکن اب لاہوری بن چکا ہوں۔۔۔
میں نے پھر سوال کیا
ریٹائیرڈ فوجی؟
بولے جی بیس سال پہلے ریٹائیر ہو ا تھا۔۔ پہلے نوکری کی پھر رکشہ خرید لیا پچھلے دس سال سے یہ ہی کام کر رہا ہوں۔۔
میں بولا آپ کا رکشہ ٹو سٹروک ہے ۔۔لوگ تو فور سٹروک کو ترجیع دیتے ہیں ۔۔ کتنا کما لیتے ہیں؟
بابا جی بولے الحمدللہ روزانہ پانچ سات سو کما لیتا ہوں۔ اللہ کا کرم ہے پینشن اور ان پیسوں سے میرا اور میری بیوی کا بہت اچھا گزارا ہو جاتا ہے۔ ذمہ داری ہے نہیں اس لئے رکشہ چلا کر اپنے آپ کو مصروف بھی رکھتا ہوں۔۔
میں نے پوچھا کیا آپ کی اولاد نہیں؟
بولے ماشاء اللہ دو بیٹے ہیں اور دونوں اپنی جگہ خوش اور آباد ہیں۔۔
میں نے کہا تو پھر آپ گھر آرام وغیرہ کریں ماشاء اللہ بیٹے اتنا تو کما ہی لیتے ہونگے کہ آپ کو کام کی ضرورت نا پڑے؟
بابا جی بولے : نہیں سر ساری زندگی ان کو کھلایا ،پلایا اور پڑھایا ہے۔۔ سب کچھ محبت میں کیا ہے ۔۔ محبت کا معاوضہ نہیں لیا جاتا ۔۔۔ اور مجھے بھی یہ اچھا نہیں لگتا کے ان سے پیسے وغیرہ لو ں۔ ویسے بھی اب ان کے اپنے خاندان ہیں وہ اپنے خاندان کی ضروریات سہی طریقے سے پوری کریں اسی میں ہم بوڑھا بوڑھی کی خوشی ہے۔۔۔
میں نے پوچھا آپ کہیں بعیت ہیں؟
مسکرائے اور بولے: نہیں۔۔۔ بس نماز باقاعدگی سے پڑھتا ہوں ،کوشش کرتا ہوں کسی کو مجھ سے نقصان نہ پہنچے۔۔۔ اگر میرا نقصان ہو جائے تو اپنی غلطیون کی طرف دیکھتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کے مجھے زندگی سمجھنے کا ایک اور موقع دیا۔۔۔
سر زندگی میں کبھی حرام کا ایک نوالہ نہیں کھا یا اور نا ہی گھر والوں کو کھلایا ہے۔۔ محنت کرتا ہوں اور حلال کماتا ہوں کبھی کسی سواری سے حق سے زیادہ پیسے نہیں مانگے۔۔۔ اسی لئے ۔۔۔ کبھی ایک آدھ گھنٹے سے زیادہ خالی بھی بیٹھنا نہیں پڑا۔۔۔ ابا جی کسان تھے۔۔۔ اللہ والے تھے ۔۔۔ انھوں نے رب سے باتیں کرنے کی عادت ڈلوائی۔۔۔
وہ کہتے تھے اپنا غم اور مشکلات صرف اللہ کو بتایا کرو۔۔۔۔ اس یقین کے ساتھ، کہ وہ تمھیں جواب بھی دے گا اور تمھاری تکلیف بھی دور کرے گا۔۔
میں نے پوچھا ماشاء اللہ آپ تو زندگی سے بہت مطمئن اور خوش ہیں ، اس خوشی اور اطمنان کا راز کیا ہے؟
بابا جی بولے : سر اس دنیا میں خوشیاں بانٹین اور ہر ایک کو اپنی خوشی میں شریک کریں لیکن اپنے غم ،سوائے اللہ کے کسی کو نہ بتائیں ۔۔
ہاں دوسروں کی غمی میں ضرور شریک ہوں۔۔۔ اپنےغم اور مشکلات صرف اللہ کو بتائیں ۔۔۔ وہ سب کچھ جانتا ہے ۔۔۔ مگر وہ اپنے بندے کے اس فعل کو پسند کرتا ہے۔۔۔ جب اسکا بندہ ،اسے اپنا درد بتاتا ہے اور پھر اس درد کو دور کرنے کی فریاد کرتا ہے ۔۔۔۔ جب بندہ ایسا کرتا ہے تو اللہ سوہنے کی رحمت موج مارتی ہے اور بندے کی کشتی پار لگ جاتی ہے۔۔۔
میں نے پوچھا: بابا جی کتنا پڑھے ہوئے ہیں باتیں تو آپ بہت پڑھی لکھی کر رہے ہیں؟
بابا جی بولے : سر میں چھ جماعتیں پڑھا ہوں۔۔۔ لیکن دنیا خود بھی تعلیم دیتی ہے بس بندے کو ارد گرد دھیان رکھنا ہوتا ہے اور پھر غور و فکر کرنی ہوتی ہے۔۔۔
میں سوچ میں پر گیا کہ اس بوڑھے شخص میں کتنی خودداری اور قناعت ہے۔۔ کتنا خوش قسمت ہے کہ اتنے کم پر خوش اور صابر ہے ۔۔۔ اللہ کی کتنی رحمت ہے اس پر، اللہ نے اسے دنیا سے توقعات رکھنےسے بچا رکھا ہے اور اسے بے نیاز کر دیا ہے۔۔
اسی سوچ میں دفتر آ گیا ۔۔
پیسے دیئے اوردفتر آ کر سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔پہلے ای میلز چیک کیں اور فیس بک اکاونٹ میں لاگ ان ہو گیا۔۔۔
اسی دوران حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ذہن میں گونجنے لگی۔۔۔
الکاسب حبیب الله
محنت کش اللہ کا دوست ہوتا ہے۔
شاید رکشے والے بوڑھے بابا کی باتوں کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بابا محنت کر کے روزی کماتا ہے۔۔ وہ محنت کرتا ہے،توکل کرتا ہے اور راضی بالرضا رہتا ہے۔۔۔
رب رحمان اسے اپنی جناب سے روزی عطا کرتا ہے ۔۔ اس کی نیت ، صاف دلی اور محنت کا ثمر اور اللہ کی ایک بڑی عطا۔۔۔ جسے۔۔۔ حکمت کہتے ہیں اس کے چہرے اور گفتگو سے عیاں ہوتی ہے۔۔
میں ایک متمول خاندان میں پیدا ہوا۔۔ جو بات منہ سے نکلتی وہ تقریباً پوری ہو جاتی۔۔۔ جس سوسائٹی میں تعلیم پائی وہاں اکثر بچے محنت کشوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔۔ لیکن الحمدللہ میرے والدین نے ہمیشہ ہم بہن بھائیوں کو انسان کی عزت کرنی سکھائی۔۔۔لیکن پھر بھی کئی بار سٹیٹس کا خناس ذہن میں آ ہی جاتا۔۔
یہ 1996 کی بات ہے کہ گیزر کو جانے والا پائپ زیر زمیں ٹوٹ گیا۔۔۔ ابو نے دفتر جانے سے پہلے مجھے کہا ۔۔۔۔کہ ایک مزدور لے آؤں تا کہ وہ فرش توڑ کر پائپ نکال دے پھر پلمبر بلا کر پائپ بدلاؤں ۔۔۔ اور اس کے بعد مزدور سے سیمنٹ بجری ڈلوا کر ٹوٹا فرش جڑوا لوں۔۔۔
ابو دفتر چلے گئے۔۔۔ یہ ایف ایس سی کے امتحان دینے کے بعد کا زمانہ تھا ۔۔۔ جسمانی فٹنس اور سٹیمینا اپنے عروج پر تھا ۔۔۔۔ بیٹھے بیٹھے ایسے ہی خیال آیا جو کام مزدورسے کروانا ہے ۔۔۔ میں یہ کام خود کیوں نہ کر لوں ۔۔۔۔اوزار وغیرہ تو موجود ہیں۔۔سو ابو کے جاتے ہی میں نے جگہ توڑنی شروع کر دی ا۔۔۔ ساری دن کوئی تین چار فٹ فرش توڑا اور کوئی دو ڈھائی فٹ کھدائی کی۔۔۔ بالاخر وہ جگہ مل ہی گئی جہاں سے پائپ ٹوٹا ہوا تھا۔۔۔
شام کو ابو آئے تو میں نے ابو کو بتایا کہ مزدور تو کوئی نہیں ملا اس لئے میں نے یہ کام خود کیا ہے۔۔۔ نہا دھو کر جب چائے کے لئے بیٹھے تو مجھ سے دایاں بازو ہلانا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ پورا جسم سخت تکلیف میں تھا۔۔۔ میں نے ابو کو کیفیت بتائی ۔۔ تو وہ ہنس پڑے اور مجھے کہا کہ تجھے کس نے کہا تھا کہ یہ کام کرتا ۔۔۔ پھر دو بروفین کی گولیان دیں اور آرام کا کہا۔۔
ساری رات اذیت میں گزری۔۔ لیکن اللہ کی رحمت سے اس بات کا احساس ہوا کہ مزدوری کرنا کتنا مشکل کام ہے۔؟۔ ہم جنھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ کس طرح محنت کر کے روزی کماتے ہیں۔۔۔
میں تو دو چار فٹ فرش توڑ کر اور کھدائی کر کے بے حال ہو گیا ۔۔۔ جبکہ وہ جو روزانہ اس سے کئی گنا زیادہ کام ۔۔۔۔ اپنی اولاد اور خاندان کی روزی کمانے کے لئے کرتے ہیں اور اس پر اللہ کی رضا کے لئے پوری ایمانداری سے کرتے ہیں وہ یقیناً عظیم لوگ ہیں ۔۔۔
شاید انہی کے لئے اللہ کے حبیب نے الکاسب حبیب اللہ کہا ہے۔۔۔ یہ ہی لوگ ہیں جو معاشرے کی طاقت ہیں۔۔۔ ہمیں ان کا احترام کرنا چاہئے کہ کوئی پتہ نہیں یہ محنت کرنے والا اللہ کو کتنا پسند ہو۔۔۔
اللہ ہمیں رزق حلال کمانے اور اس کی سمجھ رکھنے اور محنت کشوں کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔
آمین ثم آمین
No comments:
Post a Comment