خدا آگاہی.."
محمد بن قدامہ رحمتہ اللہ علیہ سے بشر بن حارث رحمتہ اللہ علیہ (ایک عظیم عالم ' عبادت گزار اور خدا کے عارف) کا واقعہ مروی ھے کہ بشر رحمتہ اللہ علیہ کا ایک شرابی کے پاس سے گزر ھوا..
شرابی کو جب پتہ چلا کہ یہ بشر بن حارث رحمتہ اللہ علیہ ھیں تو وہ ادب سے آگے بڑھا' آپ کا ھاتھ پکڑ کر چوما اور عقیدت سے کہنے لگا.. "سیدی..!"
بشر رحمتہ اللہ علیہ نے اسے قریب کیا اور اس کیلئے محبت ظاھر کی.. جب وہ چلا گیا تو بشر رحمتہ اللہ علیہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ھوگئے.. کہنے لگے.. "یہ شخص ایک انسان سے محبت کرتا ھے' محض ایک ایسی خیر کے باعث جس کے بارے میں اسے وھم ھو گیا کہ یہ اس انسان کے اندر پائی جاتی ھے.. محبت کرنے والا تو شاید خیر کی اسی محبت کے ناتے چھوٹ جائے مگر جس شخص میں یہ خیر فرض کرلی گئی اس کا حال خدا ھی جانے کہ اس کے دامن میں کیا ھے.."
پھر بشر رحمتہ اللہ علیہ راستے میں پھلوں کے پاس رک گئے.. پھلوں کو وہ بہت غور سے دیکھ رھے تھے.. میں نے عرض کی.. "ابو نصر ! کیا میوے کی کچھ طلب ھو رھی ھے..؟"
فرمانے لگے.. "نہیں.. میں ان میٹھے رسیلے میووں کو دیکھ رھا ھوں جنہیں کچھ دیر بعد کوئی بھی خرید لے جائے گا.. بعید نہیں وہ خدا کا کوئی نافرمان ھو..
دیکھو ! خدا اپنے نافرمان کو بھی اتنے میٹھے پھل کھلا دے گا.. میں سوچتا ھوں وہ پھل کیسے میٹھے ھوں گے جنہیں وہ صرف اپنے فرمانبرداروں کو کھلانے کا روادار ھوگا اور جن سے جنت میں وہ اپنے پیاروں کی ضیافتیں کیا کرے گا اور وہ مشروب آخر کیسا ھوگا جس سے جام بھر بھر کر خدا کے فرمانبردار پیا کریں گے..
ارے او بھائیو ! یہ غفلت کی نیند آخر کب تک..؟ یہ دِن اور رات کی ایک دوسرے کے ساتھ جو دوڑ لگی ھے اور مہینوں اور سالوں کا تانتا بندھا ھے یہ تمہیں کیا لوریاں دے کر سلاتا ھے..؟
اگر نہیں تو پھر تمہیں بےمقصدیت سے جگانے کیلئے کیا چیز آئے..؟
یہاں محلات میں جو بسا کرتے تھے دیکھو تو سہی اب بھلا وہ کہاں جا بسے..؟
ان گھروں میں جن کی چہک سنی جاتی تھی' اب وہ کہاں جا چکے..؟ بخدا موت کا وہ دور جو اس بزم حیات میں مدام چلتا ھے ' یہ اسی کی زد میں تو آئے ھیں..
دیکھو ! موت ان کو کیسے چگ گئی جیسے کبوتر ایک ایک کرکے زمین پہ بکھرے دانے چگ لیتا ھے.. یہ رکا ھی کب ھے..؟
دیکھو ! یہ ابھی بھی چگے ھی تو جا رھا ھے.. یہاں کوئی "دانہ" پڑا تھوڑی رھے گا.. ھر کسی کی باری اور ھر کسی کا نام درج ھے.. قلمیں روشنائی سے سوکھ چکیں اور صحیفے لپیٹے جا چکے..!!
بجائے اس کے کہ اس نفس کو کل روؤ اور پھر روتے ھی جاؤ ' آج ہی کچھ اس پر رو لو..!!"
"بحر الدموع " مؤلفہ ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ.. فصل چہارم.. ص 27..
No comments:
Post a Comment