پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا شروع کیجئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بڑی افسردگی سے اپنی داستانِ الم دوست کو سنا رہا تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی:
”میرا ایک سات سالہ بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی تھی۔ ان سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ اچانک میری بیٹی کو ڈنگی بخار نے آ لیا اور کچھ ہی عرصے میں وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کی موت کے بعد اللہ نے ہمیں ایک اور بچی سے نوازا لیکن پانچ دنوں کے اندر وہ بھی وفات پا گئی۔
یہ دونوں نقصان میرے لئے ناقابل تلافی اور ناقابل برداشت تھے۔ میرا امن و سکون رخصت ہو چکا تھا۔ مجھے نہ رات کو نیند آتی نہ دن میں آرام۔ بھوک پیاس کا احساس ختم ہوچکا تھا۔ ڈاکٹروں کے چکر لگائے تو کسی نے سکون آور ادویات تجویز کیں تو کسی نے سیرو تفریح کا مشورہ دیا، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
”میرا ایک سات سالہ بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی تھی۔ ان سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ اچانک میری بیٹی کو ڈنگی بخار نے آ لیا اور کچھ ہی عرصے میں وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کی موت کے بعد اللہ نے ہمیں ایک اور بچی سے نوازا لیکن پانچ دنوں کے اندر وہ بھی وفات پا گئی۔
یہ دونوں نقصان میرے لئے ناقابل تلافی اور ناقابل برداشت تھے۔ میرا امن و سکون رخصت ہو چکا تھا۔ مجھے نہ رات کو نیند آتی نہ دن میں آرام۔ بھوک پیاس کا احساس ختم ہوچکا تھا۔ ڈاکٹروں کے چکر لگائے تو کسی نے سکون آور ادویات تجویز کیں تو کسی نے سیرو تفریح کا مشورہ دیا، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میرا جسم شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہو اور وہ شکنجہ
سخت سے سخت تر ہو رہا ہو۔ شب و روز اسی رنج و الم کی کیفیت میں گزر رہے تھے
کہ ایک دوپہر میرا بیٹا میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا کہ میں اس کے لیے ایک
کشتی بنا دوں۔ میں اپنی پریشانیوں میں غلطاں تھا اور کسی کام کے موڈ میں
نہیں تھا۔ لیکن بیٹا بھی دھن کا پکا تھا۔ اس کے مسلسل اصرار نے مجھے کشتی
بنانے پر آمادہ کر ہی لیا۔ مجھے اس کے لیے کشتی بنانے میں تین گھنٹے لگے،
جب کشتی مکمل ہو گئی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تین گھنٹے جو میں نے کشتی
بنانے میں صرف کئے وہ انتہائی انمول تھے۔ گذشتہ کئی ماہ کے دوران یہی تین
گھنٹے مجھے ملے تھے کہ جن کے دوران میرا ذہن تفکرات اور پریشانیوں سے آزاد
رہا اور مجھے کچھ سکون میسر آیا۔ اب مجھ پر یہ بھید کھل چکا تھا کہ اگر
پریشانی، رنج اور الم سے بچنا ہے تو خود کو مصروف رکھنا پڑے گا۔ چنانچہ میں
نے گھر، دفتر اور دوست احباب میں مصروف رہنے کے لیے ایک منصوبہ بندی کی۔
آج میں اتنا مصروف ہوں کہ میرے پاس پریشان ہونے کے لئے کوئی وقت نہیں۔”
(ڈیل کارنیگی کی کتاب سے ماخوذ وضاحت)
(ڈیل کارنیگی کی کتاب سے ماخوذ وضاحت)
ہماری اکثر پریشانیوں اور غموں کا سبب فارغ اوقات میں بیٹھ کر اوٹ پٹانگ
سوچوں کو ذہن میں جگہ دینا ہے۔ فراغت میں کبھی آفس کی پریشانی یاد آتی ہے
تو کبھی گھر کا کوئی مسئلہ۔ مردوں کے برعکس خواتین کو اکثر اپنی ساس یا بہو
سے متعلق سوچیں آتی ہیں جس سے ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ ذہن میں آنے
والی یہ سوچیں اگر اس قابل ہیں کہ انہیں حل کیا جائے تو کوئی بے وقوف ہی
ہوگا جو انہیں ٹالنے کا مشورہ دے گا۔ لیکن اگر یہ سوچیں اس نوعیت کی ہیں کہ
آپ ان کو حل کرنے کے لیے فی الوقت کچھ نہیں کر سکتے یا پھر یہ سوچیں ان
مسئلوں پر مبنی ہیں جن کو حل ہی نہیں کیا جاسکتا تو ایسی صورت میں ان سے
چھٹکارا پانا لازمی ہے۔ یہ لایعنی سوچیں اور ناقابل حل پریشانیاں اگر ذہن
میں پلتی رہیں تو یہ آہستہ آہستہ دماغ کے کونوں کھدروں میں جگہ بنا لیتی
ہیں۔ ان کی مثال کھٹملوں کی سی ہے جو چارپائی کے ایک ایک انگ میں اپنی جگہ
بنا لیتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اگر ان کا قلع قمع نہ کیا جائے تو یہ
انڈے بچے دے کر اپنی نسل کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دیتے ہیں۔
ان سوچوں سے نجات کا ایک طریقہ یہ ہے کہ خود کو مصروف رکھا جائے اور غیر
ضروری فراغت سے گریز کیا جائے۔ ایک پروفیسر جیمز ایل مرسل کیا خوب کہتے
ہیں:
”جب آپ مصروف ہوتے ہیں تب پریشانیاں اور تفکرات آپ پر حملہ آور
نہیں ہوتے، لیکن جب آپ کے کام کاج کے اوقات اپنے اختتام کو پہنچتے ہیں اس
وقت آپ کا ذہن بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے ایک موٹر فارغ چل رہی ہو اور اس
کی توانائی کہیں استعمال نہ ہو۔ ایسی صورت میں یہ موٹر اپنے ہی پرزے جلا دے
گی کیونکہ وہ بنا کسی لوڈ کے چل رہی ہے۔ یہی حال ایک فارغ ذہن کا ہے۔ اس
لئے پریشانیوں اور تفکرات سے نجات کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ذہن کی موٹر کو
کسی تعمیری کام میں مصروف رکھا جائے۔ اتنا مصروف کہ یہ سوچنے کا بھی وقت نہ
ہو کہ آپ خوش ہیں یا ناخوش۔”
No comments:
Post a Comment