Pages

Sunday, 6 April 2014

پہلے خانے سے آخری خانے تک اس نے ساری کتابیں دیکھ ڈالیں، اسے قرآن پاک نہیں ملا تھا۔ وہ چھوٹے بچوں کی طرح ہچکیاں لیتے ہوئے تیسری الماری کی تلاشی لینے لگی۔ وہ کتابوں کو دھندلائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر فرش پر اچھال دیتی۔ اس نے ساری الماری خالی کر ڈالی۔ اسکی پشت پر کتابوں کا انبار لگا تھا، اسکے ہاتھ پاؤں اور چہرہ گرد سے اٹ گئے تھے، اسکے بالوں میں کاغذ کے بےشمار پرزے اٹکے ہوئے ہوئے تھے، اب صرف ایک الماری بچی تھی۔
“اگر اس میں بھی الله کی کتاب نہ ہوئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
اسے لگا وہ مر جائے گی۔
لرزتے ہاتھوں سے پانچویں الماری کے پٹ کھولے۔ اب وہ کتابوں کو نہایت آہستگی اور سست روی سے دیکھ رہی تھی۔
تیسرے خانے کی پہلی کتاب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے اپنا سانس تک روک رکھا تھا،
وہ قرآن پاک تھا۔۔۔۔
گرد جمے اوراق کو بےتحاشا چومتے ہوئے وہ عین بلب کے نیچے بیٹھ گئی تھی۔ اسے عربی پڑھنا نہیں آتی تھی، بچپن میں محض ایک دفعہ قرآن پاک پڑھا تھا مگر اسکے بعد کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھا تھا۔
اس نے جلتی آنکھوں سے حروف کو شناخت کرنے کی کوشش کی اور ہجے کر کے اٹک اٹک کر پڑھنے لگی۔
اسکی ہچکی بندھ گئی تھی۔ سطروں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اسکے گدلے آنسو اوراق میں جذب ہو رہے تھے۔ آیتوں کے نیچے نہایت باریک لکھائی میں ترجمہ لکھا تھا۔ اس نے گیلی گدلی آنکھوں کو زور سے رگڑ ڈالا اور جھک کر باریک حروف کو اونچی آواز میں پڑھنے لگی۔
“جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے جھڑ جائیں گے اور جب سمندر بہہ نکلیں گے اور جب قبریں (شق کر کے) اکھاڑ دی جائیں گی (اس وقت) ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے (یعنی اگلے پچھلے اعمال) کو معلوم کر لے گا۔ اے انسان! تجھے اپنے کرم والے رب سے کس چیز نے فریب دیا ۔۔۔۔۔۔؟“
آنسوؤں کے گولے نے اس کی آواز کا گلا گھونٹ دیا تھا. آنکھوں میں تنی مٹیالی دھند کی چادر نے اس کی بینائی چھین لی تھی۔
“ تجھے اپنے کرم والے رب سے کس چیز نے فریب دیا, جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا۔۔“
اسے کند چھری سے ذبح کیا جا رہا تھا، درد کی شدت اسکی برداشت سے باہر تھی۔
“جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا، اور پھر درست اور برابر بنایا. جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا۔۔۔“
وہ قرآن کو سینے سے بھینچ کر چلانے لگی۔ اس کا پورا وجود ایک ٹیس بن گیا تھا، ہر مسام سے آنسو ابل رہے تھے۔ ساری رات وہ روتی رہی تھی۔ قرآن کو سینے سے لگائے، کمرے کے طول و عرض میں بھٹکتی رہی تھی۔۔
"رقصِ جنوں" تحریر.. بشریٰ سعید..

No comments:

Post a Comment