Pages

Sunday, 20 April 2014

کتاب زندگی .
کتاب زندگی کے ورق برابر الٹ رہے ہیں۔ ہر آنے والی صبح ایک نیا ورق الٹ دیتی ہے۔ یہ الٹے ہوئے ورق برابر بڑھ رہے ہیں اور باقی ماندہ ورق برابر کم ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔
اور ایک دن وہ ہو گا جب آپ اپنی زندگی کا آخری ورق الٹ رہے ہو گے۔۔۔۔۔۔۔
جونہی آپ کی آنکھیں بند ہوں گی، یہ کتاب بھی بند ہو جائے گی۔ اور آپ کی یہ تصنیف محفوظ کر دی جائے گی۔
کبھی آپ نے غور کیا اس کتاب میں آپ کیا درج کر رہے ہیں؟؟؟
روزانہ کیا کچھ لے کر آپ اس کا ورق الٹ دیتے ہیں۔ آپ کو شعور ہو یا نہ ہو آپ کی یہ تصنیف تیار ہو رہی ہے اور آپ اس کی ترتیب و تکمیل میں اپنی ساری قوتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔
اس میں آپ وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں۔ جو آپ سوچتے ہیں، دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سناتے ہیں، چاہتے ہیں، کرتے ہیں، اور کراتے ہیں۔ اس میں صرف وہی کچھ نوٹ ہو رہا ہے۔ جو آپ کر رہے ہیں۔ اس کتاب کا مصنف تنہا آپ ہیں۔ ذرا آنکھیں بند کریں۔
اور سوچئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؛کل؛۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی کتاب آپ کے ہاتھ میں ہو گی اور شہنشاہ واحد و قہار آپ سے کہے گا؛
پڑھ اپنی کتاب ۔ آج اپنے اعمال نامہ کا جائزہ لینے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔
پھر سوچئے ان خوش نصیبوں کی خوشی کا کیا ٹھکانہ ہو گا۔ جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور ان مجرموں پر کیا بیتے گی جن کی کتاب زندگی ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائی جائے گی؟
ذرا غور کریں؛
کہ آپ اپنی کتاب زندگی میں کیا درج کر رہے ہیں جو آپ کو جنت یا جہنم کی طرف لے جائے گی ؟

No comments:

Post a Comment