ایک اللہ والے نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ اس نے اپنے سر میں پٹی باندھ رکھی تھی، انہوں نے پوچھا: بیٹا کیا ہوا ؟ اس نے کہا:حضرت میرے سر میں درد ہے، جس کی وجہ سے پٹی باندھ رکھی ہے، بہت زیادہ درد ہے پہلے تو کبھی درد نہیں ہوا،
انہوں نے پوچھا : بیٹا آپ کی عمرکتنی ہے ؟ وہ کہنے لگا : جی ! میری عمر تیس سال ہے،
یہ سن کر وہ فرمانے لگے : بیٹا تیرے سر میں تیس سال تک درد نہیں ہوا تو نے شکر کی پٹی تو کبھی نہ باندھی، تجھے پہلی دفعہ درد ہوا ہے تو تونے شکوہ و شکایت کی پٹی اتنی جلدی باندھ لی؟
ہمارا حال بھی یہی ہے کہ ہم سالہا سال، برسوں برس رب کریم کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں اور ہم اس کا شکر ادا کرنے میں بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں .
لیکن جب ذرا سی بھی تکلیف پنہچتی ہے ہماری زبان سے شکوہ اور شکایات کی لمبی تفصیل ادا ہونے لگتی ہے .....
اس پاک ذات کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے ، کبھی کو تکلیف یا مصیبت بھی آجائے تب بھی یہی سوچناچاہیے
کہ اس ذات کی ہم پراور کتنی مہربانیاں ہیں اس نے ہمیں کتنی نعمتوں سے نوازا ہو ا ہے تو ان نعمتوں اور مہربانیوں کے بدلے میں ہر حال میں اسکا شکر ادا کرنا چاہیے.
No comments:
Post a Comment