خُدا کی تلاش
---------------
مجھے وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔
اے اِبن آدم ایک تیری چاہت ہے اور اِک میری چاہت ہے اگر تو چَلا اُس پر جو میری چاہت ہے تو میں تُجھے دُونگا وہ بھی جو تیری چاہت ہے اور اگر چَلا اُس پر جو تیری چاہت ہے تو تجھے تَھکا دونگا اُس میں جو تیری چاہت ہے پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔
درویش یہ سُن کر فرمانے لگے بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے؟
میں نے عرض کی حضور سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔
وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے نہیں بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے مگر ایک چیز ہے جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔
میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا لیکن کچھ پلے نہیں پڑا بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں آپ ہی بتا دیجئے نا کہ آخر وہ ایسی کیا چیز ہے جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے-
اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟
میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے
لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا کہ چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے، چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔
بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ؟ تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا،
تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-
بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے،
اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا،
تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، مارنے والے کے سامنے دوسرا گال پیش کرنا پڑے گا،
نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی۔
انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔ اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا
---------------
مجھے وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔
اے اِبن آدم ایک تیری چاہت ہے اور اِک میری چاہت ہے اگر تو چَلا اُس پر جو میری چاہت ہے تو میں تُجھے دُونگا وہ بھی جو تیری چاہت ہے اور اگر چَلا اُس پر جو تیری چاہت ہے تو تجھے تَھکا دونگا اُس میں جو تیری چاہت ہے پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔
درویش یہ سُن کر فرمانے لگے بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے؟
میں نے عرض کی حضور سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔
وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے نہیں بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے مگر ایک چیز ہے جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔
میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا لیکن کچھ پلے نہیں پڑا بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں آپ ہی بتا دیجئے نا کہ آخر وہ ایسی کیا چیز ہے جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے-
اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟
میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے
لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا کہ چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے، چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔
بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے ؟ تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا،
تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-
بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے،
اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا،
تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، مارنے والے کے سامنے دوسرا گال پیش کرنا پڑے گا،
نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی۔
انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔ اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا
No comments:
Post a Comment