Pages

Tuesday, 8 April 2014

o
انتہائی محبّت؟
نوجوان دولہا نے کہا:۔
” کیا تمہیں میری انتہائی محبّت کا، اب بھی یقین نہیں آیا؟ دیکھتی ہو! میں نےاپنی زندگی کا عزیز ترین اور بیش بہا ترین سرمایہ،اپنا دل تم پرقربان کردیا ہے! نثارکر دیا ہے!!“
دُلہن نے اپنی نغمہ ریز آواز ميں جواب دیا۔
”دل قربان کرنا تومحبّت کے راستے میں پہلا قدم ہے!
میں تمہاری محبت کا اِس سے بہترثبوت چاہتی ہوں!
تمہارے پاس اپنے دل سے کہيں زیادہ بیش بہا اِک موتی ہےاوروہتمہاری ماں کا دل ہے۔
اگرتم اُسےنکال کر مجھےلادوتومیں سمجھوں کہ ہاں تمہیں مجھ سے محبت ہے!“
نوجوان دُولہا ایک لمحہ کےليےگھبرا سا گیا۔ اُس کےخيالات ميں ایک قیامت سی برپا ہوگئی۔
مگر بالآخر”بیوی کی محبّت“ ”ماں کی محبّت“ پرغالب آئی ۔ اِسی مجنونانہ، مسحورانہ حالت ميں اُٹھا اوراپنی ماں کا سینہ چیر کر، اُس کا دل نکال کراپنی دلہن کی طرف لےچلا۔ اضطرابِ عجلت میں پیرجو پِھسلا تو نوجوان دُولہا زمین پرگِرپڑا اوراُس کی ماں کا خون آلود دل، اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کرخاک میں تڑپنے لگا۔۔۔۔۔۔۔!
اُس دل میں سےنہایت آہستہ شیریں اور پیار سے لبریز آواز آرہی تھی!
”بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟“

اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا ۔تجھ کو کسی بندے کی روح قبض کرتے وقت کبھی رحم بھی آیا یا نہیں ؟ملک الموت نے عرض کیا۔ اللہ رب الغزت ! مجھکو دو ذی روحوں کی جان نکالنے میں کمال رقت ہوئی تھی ، اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز ہرگز ان کی جان نہ نکالتا۔ ارشادہوا: بتاؤ‘ وہ دو لوگ کون تھے؟
عرض کیا :ایک تو وہ بچہ تھا جو نیا پیدا ہوا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ جہاز کے ٹوٹے ہوئے تختے پر بے سروسامانی کی حالت میں بحر بیکراں میں تیراتا جا رہا تھا۔ اس وقت اس بچے کا واحد سہارا تمام کائنات میں اس کی ماں تھی تو مجھے حکم ہوا کہ اسکی ماں کی روح قبض کرلے۔ اس وقت مجھے اس بچے پر بے حد بے حد رحم آیاتھا کیونکہ اس بچے کا اس کا ماں کے سوا کوئی دوسرا خبر گیر نہ تھا اور بھوکا پیاسا بچہ اپنی ماں کے دودھ کے لئے ترس رہاتھا۔
اور باری تعالیٰ ! دوسرا ایک بادشاہ تھا جس نے ایک شہر کمال آرزو سے ایسا بنوایا تھاکہ ویسا شہر دنیا میں کہیں نہیں تھا، جب وہ شہر تیار ہو گیا اور بادشاہ اپنے شہر کو دیکھنے پہنچا تو جس وقت ایک قدم اس کا شہر کے دروازے میں تھا تو مجھے حکم ہوا اور اس کی جان قبض کر لے اس وقت بھی مجھے بہت رونا آیا تھا کہ وہ بادشاہ کیاکچھ حسرتیں اپنے دل میں لے گیا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:عزرائیل ! تمہیں ایک ہی شخص پر دوبار رحم آیا ہے! کیونکہ یہ بادشاہ وہی بچہ شداد تھا جس کو ہم نے بغیر ماں باپ کے بنا کسی سہارے کے سمندر کی تیز وتندلہروں اور طوفانوں میں بھی محفوظ رکھا اور اس کو حشمت وثروت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب یہ اس مرتبے کو پہنچا تو ہماری تابعداری سے منہ موڑا اور تکبر کرنے لگا اور آخرکار اپنی سزا کو پہنچا . ــــــ.

(بہشتی زیور)

Monday, 7 April 2014

حلال اشیاء حرام کیسے؟
حضرت ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ کے خدمت میں ایک کسان حاضر ہوا۔
اس نے پوچھا: اے ابووائل! کیا شراب حرام ہے؟
فرمایا‘ ہاں‘ یہ حرام ہے۔
اس نے کہا: پھل اور پانی کو آگ پر پکایا گیاہے‘ اصل میں یہ دونوں اجزاء حلال ہیں۔ پھر آگ پر پکانے سے حرام کیسے ہوگئے‘ جبکہ اس میں کسی حرام چیز کی آمیزش نہیں۔
آپ نے کہا: کسان بھائی کیا بات ختم کرلی یا اور بات کہنا چاہتے ہو ؟
اس نے کہا: بس میرا یہی سوال ہے‘ اب آپ اپنا ارشاد فرمائیے۔
ابو وائل ایاس بن معاویہ نے کہا: اگر میں پانی کا ایک چُلو تجھے دے ماروں تو کیا اس سے تکلیف ہوگی؟
اس نے کہا نہیں۔ اگر مٹی کی ایک مٹھی تجھے ماروں‘ کیا اس سے تکلیف ہوگی؟
اس نے کہا نہیں۔
اگر توڑی کی مٹھی تجھے دے ماروں‘ کیا تکلیف محسوس کرو گے؟
کہا نہیں۔
اور اگر میں پانی‘ مٹی اور توڑی ملا کر ایک ڈھیلا بناؤں اور وہ دھوپ میں خشک ہو جائے پھر اسے اُٹھا کر تجھے ماروں‘ کیا تکلیف ہوگی؟
اس نے کہا: کیوں نہیں ضرور‘ ہوسکتا ہے اس کے ذریعے تم مجھے قتل کردو۔
آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: بس یہی مثال شراب کی ہے۔ جب اجزاء کو ملا کر اسے آگ کی آنچ دی جاتی ہے‘ اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے حرام قرار دیا گیا ہے۔
(حیات تابعین کے درخشاں پہلو ص۶۱)
فرانس کا ایک وزیر تجارت کہتا تھا؛ برانڈڈ چیزیں مارکیٹنگ کی دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتی ہیں جنکا مقصد تو امیروں سے پیسہ نکلوانا ہوتا ہے مگر غریب اس سے بہت متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Iphone اُٹھا کر پھروں تاکہ لوگ مجھے ذہین اور سمجھدار مانیں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ Mac یا Kfc کھاؤں تاکہ لوگ یہ نا سمجھیں کہ میں کنجوس ہوں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ دوستوں کے ساتھ اٹھک بیٹھک Starbucks پر جا کر لگایا کروں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں خاندانی رئیس ہوں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Adidas یا Nike سے کپڑے لیکر پہنوں تو جینٹل مین کہلایا جاؤں گا؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں اپنی ہر بات میں دو چار انگریزی کے لفظ ٹھونسوں تو مہذب کہلاؤں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Adele یا Rihanna کو سنوں تو ثابت کر سکوں کہ میں ترقی یافتہ ہو چکا ہوں؟
نہیں یار!!!
میرے کپڑے عام دکانوں سے خریدے ہوئے ہوتے ہیں، دوستوں کے ساتھ کسی تھڑے پر بھی بیٹھ جاتا ہوں، بھوک لگے تو کسی ٹھیلے سے لیکر کھانے میں بھی عار نہیں سمجھتا،
اپنی سیدھی سادی زبان بولتا ہوں۔ اگر تو سمجھتا ہے ناں، کہ میں غریب ہوں، بخیل ہوں، تو سُن، غلطی پر میں نہیں، تو ہے، جا اپنے نفسیاتی مرض کا علاج کرا۔
اللہ کا کرم ہے، چاہوں تو وہ سب کر سکتا ہوں جو اوپر لکھا ہے لیکن۔۔۔۔
میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو میری Adidas سے خریدی گئی ایک قمیص کی قیمت میں پورے ہفتے کا راشن لے سکتے ہیں۔
میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں جو میرے ایک Mac برگر کی قیمت میں سارے گھر کا کھانا بنا سکتے ہیں۔
بس میں نے یہاں سے راز پایا ہے کہ پیسے سب کچھ نہیں،
جو لوگ ظاہری حالت سے کسی کی قیمت لگاتے ہیں وہ فورا اپنا علاج کروائیں۔
انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔
دہریوں کی ایک جماعت نے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پرحملہ کردیا اور آپ کو قتل کرنا چاہا۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے اس مسئلہ میں مجھ سے بحث کرلو، اسکے بعد تمہیں اختیارہے،
انہوں نے اس بات کو منظورکرلیا۔چنانچہ مناظرے کی تاریخ اور وقت طے ہوگیا۔مگر ہوا یوں کہ آپ مناظرے میں دیرسے پہنچے۔ انہوں نے اس پربڑا شورغوغا کیا۔
آپ نے فرمایا کہ پہلے میرے بات سن لو، شاید آپ مجھے تاخیر میں معذور پائیں۔
انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے بتائیے۔
آپ نے فرمایا کہ آج تو عجیب وغریب صورت دیکھنے میں آئی۔جب میں دریا کے کنارے پہنچا تو وہاں دور تک کشتی کا نام ونشان نہ تھا۔حیران تھا کہ کس طرح دریاعبورکروں گا۔
اس اثنا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درخت خود کٹ گیا اور اس کے تختے بن گئے، پھر بغیر کسی کاریگر اور بغیر کیلوں کے ان تختوں نے جڑنا شروع کیا یہاں تک کہ کشتی تیار ہوگئی پھر وہ بغیر ملاح کے پانی کے دوش پراٹھکیلیاں کرتی میرے پاس آگئی۔ میں سوار ہوگیا، ہوا چلنے لگی یہاں تک کہ ساحل پر آلگی۔
دہریوں نے یہ سنا تو آسمان سر پر اٹھا لیا اور کہنے لگے کہ بھلا ایسا بھی ممکن ہے کہ بغیر کاٹنے کے درخت کٹ جائے اورکشتی تیار ہوجائے اور بغیر ملاح کے کشتی چلنے لگے۔
امام صاحب نے فرمایا بدبختو ! اگر ایک درخت بغیر کاٹنے والے کے نہیں کٹ سکتا، تختے بغیرجوڑنے والے کے نہیں چڑسکتے۔ ایک کشتی تیار ہو کر بھی بغیرملاح کے نہیں چل سکتی
تو کائنات کا یہ سارا نظام یہ شجروحجر، یہ نہریں اور دریا، یہ شمس وقمر، یہ گل وگلزار، یہ حیوان اور انسان یہ ستاروں کے جھرمٹ اورکہکشاں یہ سب کچھ کیا خود از خود وجود میں آگیا اتنا بڑا کارخانہ کیاخود بخود چل رہا ہے، اسے کوئی چلانے والانہیں۔
ان دہریوں کے سمجھ میں بات آگئی اور انہوں نے تائب ہو کر اسلام قبول کرلیا۔
(حیات امام ابوحنیفہ:ص136۔اہل الثناوالمجد:ص534)