Pages

Friday, 21 February 2014

ایک عالِم نے ایک بُڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر فرمایا.. " بڑی بی ! ساری عُمر چرخہ ھی کاتا ھے یا کچھ اپنے خدا کی بھی پہچان کی..؟ "

بُڑھیا نے جواب دیا.. " بیٹا مَیں نے تمہاری طرح موٹی موٹی کتابیں تو نہیں پڑھیں مگر سب کچھ اِسی چرخہ میں دیکھ لیا.. "

فرمایا.. " بڑی بی! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ھے یا نہیں..؟ "

بُڑھیا نے جواب دیا.. " ھاں ! ھر گھڑی اور رات دن ' ھر وقت ایک زبردست خدا موجود ھے.. "

عالِم نے فرمایا.. " مگر اس کی کوئی دلیل بھی ھے تمہارے پاس..؟"

بُڑھیا بولی.. " دلیل ھے یہ میرا چرخہ.. "

عالِم نے پوچھا.. " یہ معمولی سا چرغہ کیسے..؟ "

وہ بولی.. " وہ ایسے کہ جب تک مَیں اس چرخہ کو چلاتی رھتی ھوں یہ برابر چلتا رھتا ھے اور جب مَیں اسے چھوڑ دیتی ھوں تب یہ ٹھہر جاتا ھے..

تو جب اس چھوٹے سے چرخہ کو ھر وقت چلانے والے کی لازماً ضرورت ھے تو اِتنی بڑی کائنات یعنی زمین و آسمان ' چاند ' سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو کس طرح چلانے والے کی ضرورت نہ ھو گی..؟

پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاھیے اسی طرح زمین و آسمان کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاھیے.. جب تک وہ چلاتا رھے گا یہ سب چرخے چلتے رھیں گے اور جب وہ چھوڑ دے گا تو یہ ٹھہر جائیں گے..

مگر ھم نے کبھی زمین و آسمان ' چاند سورج کو ٹھہرے ھوئے نہیں دیکھا تو جان لیا کہ ان کا چلانے والا ھر گھڑی موجود ھے.. "

عالم نے سوال کیا.. " اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ھے یا دو..؟ "

بُڑھیا نے جواب دیا.. " ایک ھے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی یہی میرا چرخہ ھے کیوں کہ جب اس چرخہ کو مَیں اپنی مرضی سے ایک طرف کو چلاتی ھوں تو یہ چرخہ میری مرضی سے ایک ھی طرف کو چلتا ھے.. اگر کوئی دوسرا چلانے والا ھوتا تب تو چرخہ کی رفتار تیز یا آھستہ ھو جاتی اور اس چرخہ کی رفتار میں فرق آنے سے مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ھوتا..

یعنی اگر کوئی دوسرا صریحاً میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہت پر چلاتا تو یہ چرخہ چلتے چلتے ٹھہر جاتا مگر ایسا کبھی نہیں ھوا.. اس وجہ سے کہ کوئی دُوسرا چلانا والا ھے ھی نہیں..

اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دُوسرا خدا ھوتا تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ھو کر دن رات کے نظام میں فرق آ جاتا یا چلنے سے ٹھہر جاتا یا ٹوٹ جاتا.. جب ایسا نہیں ھے تو پھر ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ھی خدا ھے..!! "

ماخوذ از " سیرت الصالحین ص:٣ "

No comments:

Post a Comment