Pages

Friday, 7 February 2014


جانے کیا بات تھی ہر بات پر رونا آیا

تھا میں نیند میں اور مجھے اتنا سجھایا جا رہا تھا
بڑے ہی پیار سے مجھے نہلایا جا رہا تھا
نجانے تھا وہ کون سا عجیب کھیل میرے گھر میں
جس میں بچوں کی طرح مجھے کندھے پہ اٹھایا جا رہا تھا

تھا پاس میرے میرا ہر اپنا اُس وقت
پھر بھی میں ہر کسی کے منہ سے بُلایا جا رہا تھا
جو کبھی دیکھتے ہی نہ تھے محبت کی نگاہوں سے
اُن کے دل سے بھی پیار مجھ پہ لُٹایا جا رہا تھا

معلوم نہیں حیران تھا ہر کوئی مجھے سوتے ہوئے دیکھ کر
زور زور سے رو کر مجھے ہنسایا جا رہا تھا

کانپ اُٹھی میری روح میرا وہ مکان دیکھ کر
پتا چلا مجھے دفنایا جا رہا تھا
رو پڑا پھر میں بھی میرا وہ منظر دیکھ کر
جہاں مجھے ہمیشہ کے لیے سلایا جا رہا تھا

یہ دن بھی قیامت کی طرح گزرا ہے "فراز"
جانے کیا بات تھی ہر بات پر رونا آیا


No comments:

Post a Comment