Pages

Saturday, 8 February 2014


میں ’’معتصم باللہ‘‘ کی تاریخ کو نہیں جانتا ، اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ وہ کیسا حکمران تھا، اس نے اپنی رعایا کے لئے کیا فلاح و بہبود کے کام کیئے یہ بھی نہیں جانتا، اس نے معیشت کو مستحکم کیا یا سڑکیں روڈ بنوائے یا پانی و نکاسی کا نظام اچھا کیا، میں کسی ایک کام کے بارے میں نہیں جانتا۔شاید آپ کو بھی معلوم نہ ہو۔۔۔۔۔لیکن اتنا جانتا ہوں ، کسی مجبور و بے کس عورت نے دور پار کے دیس میں آواز لگائی ’’ وا معتصماہ ! ‘‘ ۔۔ کس طرح یہ آواز معتصم تک پہنچ گئی۔۔

اس شخص نے جب یہ آواز ، یہ پکار ، یہ فریاد ، یہ التجا سنی اس نے صبر نہیں کیا ، اس نے نفع نقصان کے تخمینے نہیں لگائے،،،،
بس فوج تیار کی اور اس عورت کی داد رسی کے لئے جا پہنچا اور اسے دشمن سے بازیاب کرایا۔

سوچتا ہوں ، میں معتصم کے کسی کارنامے سے واقف نہیں ، پھر بھی میرے دل میں اس کی عزت کیوں آ جاتی ہے ۔۔۔۔ شاید اس کی غیرت و حمیت کی وجہ سے ۔۔

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں ۔۔۔

آج کے حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں ، تم سڑکیں بنواو ، روڈ پکے کرو ، معیشت کی بحالی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کرو ۔۔ واللہ جو تم لوگوں کے ماتھے پہ اپنے ہی لوگوں کے قتل عام کا ، اپنی ماوں بہنوں کو اغوا کر کے دشمنوں کے حوالے کرنے کا جو ٹیکہ لگ چکا ہے، وہ کبھی نہیں مٹنے والا۔۔۔

تم چاہے جتنے بھی کام کرا دو ، تمہیں تاریخ بہن فروش کےنام سے ہی یاد کرے گی۔۔۔ تمہیں تاریخ بےغیرت و بے حمیت کے نام سے ہی یاد کرے گی۔۔۔

حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ۔۔۔۔

اس شخص نے جب یہ آواز ، یہ پکار ، یہ فریاد ، یہ التجا سنی اس نے صبر نہیں کیا ، اس نے نفع نقصان کے تخمینے نہیں لگائے،،،،بس فوج تیار کی اور اس عورت کی داد رسی کے لئے جا پہنچا اور اسے دشمن سے بازیاب کرایا۔
سوچتا ہوں ، میں معتصم کے کسی کارنامے سے واقف نہیں ، پھر بھی میرے دل میں اس کی عزت کیوں آ جاتی ہے ۔۔۔۔ شاید اس کی غیرت و حمیت کی وجہ سے ۔۔
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں ۔۔۔
آج کے حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں ، تم سڑکیں بنواو ، روڈ پکے کرو ، معیشت کی بحالی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کرو ۔۔ واللہ جو تم لوگوں کے ماتھے پہ اپنے ہی لوگوں کے قتل عام کا ، اپنی ماوں بہنوں کو اغوا کر کے دشمنوں کے حوالے کرنے کا جو ٹیکہ لگ چکا ہے، وہ کبھی نہیں مٹنے والا۔۔۔
تم چاہے جتنے بھی کام کرا دو ، تمہیں تاریخ بہن فروش کےنام سے ہی یاد کرے گی۔۔۔ تمہیں تاریخ بےغیرت و بے حمیت کے نام سے ہی یاد کرے گی۔۔۔
حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ۔۔۔۔اس شخص نے جب یہ آواز ، یہ پکار ، یہ فریاد ، یہ التجا سنی اس نے صبر نہیں کیا ، اس نے نفع نقصان کے تخمینے نہیں لگائے،،،،بس فوج تیار کی اور اس عورت کی داد رسی کے لئے جا پہنچا اور اسے دشمن سے بازیاب کرایا۔سوچتا ہوں ، میں معتصم کے کسی کارنامے سے واقف نہیں ، پھر بھی میرے دل میں اس کی عزت کیوں آ جاتی ہے ۔۔۔۔ شاید اس کی غیرت و حمیت کی وجہ سے ۔۔غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں ۔۔۔آج کے حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں ، تم سڑکیں بنواو ، روڈ پکے کرو ، معیشت کی بحالی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کرو ۔۔ واللہ جو تم لوگوں کے ماتھے پہ اپنے ہی لوگوں کے قتل عام کا ، اپنی ماوں بہنوں کو اغوا کر کے دشمنوں کے حوالے کرنے کا جو ٹیکہ لگ چکا ہے، وہ کبھی نہیں مٹنے والا۔۔۔تم چاہے جتنے بھی کام کرا دو ، تمہیں تاریخ بہن فروش کےنام سے ہی یاد کرے گی۔۔۔ تمہیں تاریخ بےغیرت و بے حمیت کے نام سے ہی یاد کرے گی۔۔۔حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ۔۔۔۔


No comments:

Post a Comment