فیس بک پر جعلی آئی ڈیز کا بھی خوب رواج چلا ہے ، بزدل لوگ اس کے پیچھے چھپ کر اپنے مخا لف سے بہادری سے بات کرتے ہیں ۔ مگر میں تو یہ سوچتا ہوں کہ اتنا وقت اور اتنا بغض لوگوں میں آکہاں سے جاتا ہے ؟فیس بک پر نوجوان نسل کو تو چھوڑئے ، بال بچوں والے اصاحب ،جو عمر کے ا س دور میں داخل ہیں جہاں ذہنی پختگی خود بخود آجاتی ہے ، جعلی آئی ڈیز بناتے ہیں ، کسی اور کی تصویر لگاتے ہیں اور فیس بک پر اپنا فیس ہی بدل لیتے ہیں اور یوں وہاں سے اپنے مخالف کی کھنچائی کرتے ہیں ۔ اور اس طرح منفاقت کا ہاتھ بھی نہیں چھوٹتا ، مخالف کے لتے بھی لے لئے اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کہہ کون رہا ہے ۔ وہ جیسے کہتے ہیں نہ کہ پاکستان میں ہیلمٹ کا رواج خوب چلا ہے ، جس کے پیسے دینے ہوں اس کے سامنے بھی ہیلمٹ پہن کر پھرتے رہو ہارورڈ یونیورسٹی کے ہوسٹل کے کمرے میں بیٹھ کر ایک نوجوان یہودی لڑکے نے اپنی محبت کی ناکامی کو بھی ایک مثبت کام میں بدل دیا اور ایک ہم ہیں جو بڑے بڑے مثبت کاموں کو آپسی نفرت سے منفی میں بدل رہے ہیں ۔ آج وہ نوجوان دنیا کا سب سے کم عمر ارب پتی ہے ،جس کی بنائی ہوئی سائٹ پر چودہ ملین تصویریں روز اپ لوڈ ہوتی ہیں ۔ لاکھوں کروڑوں لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، گیمز کھیلتے ۔ایک دوسرے کو غائیبانہ تحائف بھیجتے ، ایک دوسرے کو نوٹ ٹیگ کرتے اور ایک دوسرے سے دکھ سکھ کرتے ہیں ۔ اس کو بنانے والے کے پاس اس وقت 2010میں چار بلین امریکی ڈالر کا مالک ہے ۔اس وقت نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سب سے ذیادہ فیس بک انگلینڈ ، امریکہ اور انڈونیشیا میں استعمال ہورہی ہے ۔
دوسری طرف اپنے لوگوں کو اسی غار کے انسان کی سوچ میں گرفتار دیکھتا ہوں ۔۔وہی صدیوں پرانی فرسٹریشن ، وہی سالوں سے بوسیدہ نفرت ، وہی تہمتیںلگانا ، وہی ٹانگیں کھینچنا ، وہی عورت کی تصویر کو دیکھ کر ہمیشہ بے ہودہ ہی سوچنا ۔ہم کیا اس سے آگے کبھی نہیں بڑھیں گے ؟پھر کہا جاتا ہے ہم پر زوال ہے ۔۔کیا نہ ہو ؟ پھر کہا جاتا ہے یہودی پروپگینڈہ کرتا ہے ۔۔کیا نہ کرے ؟ پھر کہا جاتا ہے ہمیں انسان نہیں سمجھا جاتا ۔۔کیا سمجھا جائے ؟ پھر کہا جاتا ہے ہم پر ظلم ہو رہا ہے ۔۔ کیا نہ ہو ؟ پھر کہا جاتا ہے دنیا میں کوئی ہماری سنتا نہیں ۔۔ کیا کوئی سنے ؟جب ہم نے اپنے ذہنوں کو ایک ہی چیز پر محدود کر دیا ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے انڈیا کی ساری فلمیں ہمارے پاکستانی نوجوانوں کے لئے بنتی ہیں ۔ خود وہ ٹیکنالوجی میں ، طب میں اور اکاؤنٹنگ میں کہاں کے کہاں پہنچ گئے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل چھوڑ ، ادھیڑ عمر حتی کہ بوڑھی نسل کو بھی سچے پیار کی تلاش میں لگا دیتے ہیں ۔۔ ہر کوئی بس ایک ہی راگ الاپ رہا ہے ۔ نہ کہیں ملک کو آگے لے جانے کی بات ہو رہی ہے ، نہ کہیں میڈیا میں اور ٹیکنالوجی میں اپنا لوہا منوانے کی بات ہو رہی ہے ، نہ کوئی عورتوں کو میرٹ پر اعلی عہدوں اور اعلی مرتبوں میں گھسانے کی بات کر رہاہے ، نہ کل کے آنے والے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی بات ہورہی ہے ۔نہ سائنس ، نہ آرٹ ، نہ زمینی علم نہ ستاروں پر کمندیں ۔۔کہاں ہے اقبال کا جوان؟ ۔۔کیا اقبال کا جوان ہندو اور یہودی ہے ؟تو کیا ہم نے قائد اعظم کے ملک کو بیچنے کے بعد اقبال کا جوان بھی بیچ دیا ہے ؟ کیا اب ہم خوابوں کی چھابڑی بھی خالی کر بیٹھے ہیں ؟ اور فقط بیٹھ کر اسی طرح تو یہ تو میں وہ ۔۔ تو جھوٹا میں سچا ، تو بدصورت میں خوبصورت ، وہ لڑکی پھنسا لو اور یہ نکال دو ۔کیا ہم صرف یہ ہیں ؟ یہ ہی رہیں گے ؟
دوسری طرف اپنے لوگوں کو اسی غار کے انسان کی سوچ میں گرفتار دیکھتا ہوں ۔۔وہی صدیوں پرانی فرسٹریشن ، وہی سالوں سے بوسیدہ نفرت ، وہی تہمتیںلگانا ، وہی ٹانگیں کھینچنا ، وہی عورت کی تصویر کو دیکھ کر ہمیشہ بے ہودہ ہی سوچنا ۔ہم کیا اس سے آگے کبھی نہیں بڑھیں گے ؟پھر کہا جاتا ہے ہم پر زوال ہے ۔۔کیا نہ ہو ؟ پھر کہا جاتا ہے یہودی پروپگینڈہ کرتا ہے ۔۔کیا نہ کرے ؟ پھر کہا جاتا ہے ہمیں انسان نہیں سمجھا جاتا ۔۔کیا سمجھا جائے ؟ پھر کہا جاتا ہے ہم پر ظلم ہو رہا ہے ۔۔ کیا نہ ہو ؟ پھر کہا جاتا ہے دنیا میں کوئی ہماری سنتا نہیں ۔۔ کیا کوئی سنے ؟جب ہم نے اپنے ذہنوں کو ایک ہی چیز پر محدود کر دیا ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے انڈیا کی ساری فلمیں ہمارے پاکستانی نوجوانوں کے لئے بنتی ہیں ۔ خود وہ ٹیکنالوجی میں ، طب میں اور اکاؤنٹنگ میں کہاں کے کہاں پہنچ گئے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل چھوڑ ، ادھیڑ عمر حتی کہ بوڑھی نسل کو بھی سچے پیار کی تلاش میں لگا دیتے ہیں ۔۔ ہر کوئی بس ایک ہی راگ الاپ رہا ہے ۔ نہ کہیں ملک کو آگے لے جانے کی بات ہو رہی ہے ، نہ کہیں میڈیا میں اور ٹیکنالوجی میں اپنا لوہا منوانے کی بات ہو رہی ہے ، نہ کوئی عورتوں کو میرٹ پر اعلی عہدوں اور اعلی مرتبوں میں گھسانے کی بات کر رہاہے ، نہ کل کے آنے والے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی بات ہورہی ہے ۔نہ سائنس ، نہ آرٹ ، نہ زمینی علم نہ ستاروں پر کمندیں ۔۔کہاں ہے اقبال کا جوان؟ ۔۔کیا اقبال کا جوان ہندو اور یہودی ہے ؟تو کیا ہم نے قائد اعظم کے ملک کو بیچنے کے بعد اقبال کا جوان بھی بیچ دیا ہے ؟ کیا اب ہم خوابوں کی چھابڑی بھی خالی کر بیٹھے ہیں ؟ اور فقط بیٹھ کر اسی طرح تو یہ تو میں وہ ۔۔ تو جھوٹا میں سچا ، تو بدصورت میں خوبصورت ، وہ لڑکی پھنسا لو اور یہ نکال دو ۔کیا ہم صرف یہ ہیں ؟ یہ ہی رہیں گے ؟


No comments:
Post a Comment