دل نے دیکھی ھے تری زلف کے سر ہونے تک
وہ جو قطر ے پہ گزرتی ھے، گہر ہونے تک
بھیڑ لگ جائےگی شیریں کی گلی میں فرہاد
لوگ بے بس ہیں تر ے شہر بدر ہونے تک
زہر پی لیتا ہُوں، گر شہد بھر ے ہونٹ تر ے
میر ے قبضے میں رہیں اس کا اثر ہونے تک
بعد اس کے کوئی تقریب نہیں ھے غم کی
آج تم پاس رہو میر ے، سحر ہونے تک
ہم تمھیں اپنی خبر دیں بھی تو کیا سوچ کے دیں
ہم کو رہنا ہی نہیں تم کو خبر ہونے تک
میرا شیرازہِ ہستی نہ بکھر جائے عدم
اُس پری زاد کو توفیقِ نظر ہونے تک
وہ جو قطر ے پہ گزرتی ھے، گہر ہونے تک
بھیڑ لگ جائےگی شیریں کی گلی میں فرہاد
لوگ بے بس ہیں تر ے شہر بدر ہونے تک
زہر پی لیتا ہُوں، گر شہد بھر ے ہونٹ تر ے
میر ے قبضے میں رہیں اس کا اثر ہونے تک
بعد اس کے کوئی تقریب نہیں ھے غم کی
آج تم پاس رہو میر ے، سحر ہونے تک
ہم تمھیں اپنی خبر دیں بھی تو کیا سوچ کے دیں
ہم کو رہنا ہی نہیں تم کو خبر ہونے تک
میرا شیرازہِ ہستی نہ بکھر جائے عدم
اُس پری زاد کو توفیقِ نظر ہونے تک

No comments:
Post a Comment