درد کی چوکھٹ پر بیٹھی لڑکی
دیکھو کیسی پگلی لڑکی
سوچ کی تانیں بن رہی ہے
روگ پرانے گن رہی ہے
آس کی ڈور کو تھام چلی ہے
دیکھو پگلی کس گام چلی ہے
چھو کر کانٹے مچل رہی ہے
ریت کو روح پر مل رہی ہے
خواب نئے ہیں روگ پرانے
درد کے سارے سوگ پرانے
اس سے بولو روک بھی دو نا
کوئی اس کو ٹوک بھی دونا
جس راہ چلی ہے گھات بہت ہے
دکھ کی پہلی رات بہت ہے
رات کا دامن تھام نہ لو تم
خود سے یہ انتقام نہ لو تم
اچھی ہو تم سچی لڑکی
لیکن کچھ کچھ پگلی لڑکی.....!
دیکھو کیسی پگلی لڑکی
سوچ کی تانیں بن رہی ہے
روگ پرانے گن رہی ہے
آس کی ڈور کو تھام چلی ہے
دیکھو پگلی کس گام چلی ہے
چھو کر کانٹے مچل رہی ہے
ریت کو روح پر مل رہی ہے
خواب نئے ہیں روگ پرانے
درد کے سارے سوگ پرانے
اس سے بولو روک بھی دو نا
کوئی اس کو ٹوک بھی دونا
جس راہ چلی ہے گھات بہت ہے
دکھ کی پہلی رات بہت ہے
رات کا دامن تھام نہ لو تم
خود سے یہ انتقام نہ لو تم
اچھی ہو تم سچی لڑکی
لیکن کچھ کچھ پگلی لڑکی.....!

No comments:
Post a Comment