Pages

Saturday, 15 February 2014


درد کی چوکھٹ پر بیٹھی لڑکی
دیکھو کیسی پگلی لڑکی
سوچ کی تانیں بن رہی ہے

روگ پرانے گن رہی ہے
آس کی ڈور کو تھام چلی ہے
دیکھو پگلی کس گام چلی ہے
چھو کر کانٹے مچل رہی ہے
ریت کو روح پر مل رہی ہے
خواب نئے ہیں روگ پرانے
درد کے سارے سوگ پرانے
اس سے بولو روک بھی دو نا
کوئی اس کو ٹوک بھی دونا
جس راہ چلی ہے گھات بہت ہے
دکھ کی پہلی رات بہت ہے
رات کا دامن تھام نہ لو تم
خود سے یہ انتقام نہ لو تم
اچھی ہو تم سچی لڑکی
لیکن کچھ کچھ پگلی لڑکی.....!


No comments:

Post a Comment